28 اپریل 2013 - 19:30
خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں دھماکہ، ۲۶ افراد جانبحق اور زخمی

پاکستان کے شمل مغربی صوبے خیبر پختونخوا کےضلع کوہاٹ کے حلقہ این اے 39 سے آزاد امیدوار سید نور اکبر کے الیکشن دفتر میں بم دھماکے کے باعث 8 افراد جاں بحق جبکہ 18 زخمی ہو گئے ہیں۔

ابنا: پاکستان کے شمل مغربی صوبے خیبر پختونخوا کےضلع کوہاٹ کے حلقہ این اے 39 سے آزاد امیدوار سید نور اکبر کے الیکشن دفتر میں بم دھماکے کے باعث 8 افراد جاں بحق جبکہ 18 زخمی ہو گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز کے مطابق اورکزئی ایجنسی کے حلقہ این اے 39 سے آزاد امیدوار سید نور اکبر کے الیکشن آفس میں انتخابی سرگرمیاں جاری تھیں کہ زور دار دھماکہ ہو گیا۔ جس کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق جبکہ 18 زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے دھماکہ کے نتیجے میں الیکشن آفس کی چھت مکمل طور پر منہدم ہو گئی۔ جس کے بعد نعشوں اور زخمیوں کو ملبہ سے نکالا گیا اور فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکہ میں 10 کلو گرام وزنی بارودی مواد استعمال کیا گیا، جو ایک گھی کے ڈبے میں نصب تھا۔ واضح رہے کہ کچہ پخہ کا علاقہ اہل تشیع آبادی پر مشتمل ہے۔کچہ پخہ کے پرامن باسیوں کیلئے 18 ستمبر 2009ء کی شام ایک قیامت ثابت ہوئی، جب درندہ صفت دہشتگردوں نے اس علاقہ میں ایک خوفناک خودکش کار بم دھماکہ کرکے 33 چراغ بجھا دیئے، دہشتگردی کے اس واقعہ میں درجنوں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہونے کے علاوہ 60 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے اور بعض آج بھی معذوری کیساتھ زندگی گزار رہے ہیں، یہ دھماکہ اس جگہ پر ہوا جہاں سے مقامی لوگ ہنگو اور اورکزئی جانے کیلئے گاڑیوں پر سوار ہوتے تھے، خودکش حملہ آور نے بارودی مواد سے بھری گاڑی کو کچہ پخہ کے علاقے میں ایک مصروف مارکیٹ میں زور دار دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ سڑک کے دونوں جانب موجود کئی دکانیں اور گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ دھماکے کے وقت جائے وقوعہ پر لوگوں کا بہت رش تھا کیونکہ عید کی تیاریوں کے سلسلے میں خریداری میں مصروف تھے، جبکہ بعض افراد اپنے گھروں کو جانے کیلئے گاڑیوں کے انتظار میں تھے، اور انہیں نہیں معلوم تھا کہ ان کا یہ سفر ’’سفر آخرت‘‘ ثابت ہوگا، دھماکہ کے بعد برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے خبر جاری کی کہ ’’اس خودکش حملے کی ذمہ داری لشکر جھنگوی نے قبول کرلی ہے، جبکہ پولیس حکام کی جانب سے بھی کہا گیا کہ دہشتگردی کی اس کارروائی کے پیچھے فرقہ وارانہ ذہنیت کارفرما ہے۔ دھماکہ میں اتنی تباہی ہوئی کہ ملبہ ہٹانے کیلئے کوہاٹ شہر سے بھاری مشینری منگوائی گئی اور پھر تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹا کر جاں بحق ہونے والوں کی نعشیں اور زخمیوں کو نکالا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲